Pages

Showing posts with label islamic. Show all posts
Showing posts with label islamic. Show all posts

Wednesday, 16 November 2016

Maloomat Tareekh e Islam by Mr.Shair Ali pdf


Maloomat Tareekh-e-Islam" is the title name of this Urdu book which is compiled by Mr. Shair Ali



Sunday, 13 November 2016

Kya Aap ko Maloom Hai Authored by Mufti Mohammad Akram pdf

Kya Aap ko Maloom Hai  is the title name of this Urdu book which is authored by Mufti Mohammad Akram
&
                                                       Download

Wednesday, 26 October 2016

شیر خدا ؓکی جرأ ت کو لاکھوں سلام



شیر خدا ؓکی جرأ ت کو لاکھوں سلام


اسلام اور کفر کی جنگ تھی‘ ایک بار ایسا ہوا کہ حضرت علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) دشمنوں میں گھِر گئے۔ مگر ان کی بہادری پر دشمن بھی اش اش کر اٹھا۔ ایک دشمن نے موقع پا کر پیچھے سے اچانک حملہ کر نا چاہا۔ شیر خدا حضرت علی(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سمجھ گئے اور آپ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)نے پلٹ کر دفاعی وار کیا۔ یہ ایسا بھرپور وار تھا کہ دشمن کی تلوار کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ تلوار دشمن کے ہاتھ سے نکل گئی اور وہ نہتا ہو چکا تھا۔ مگر گھبرا کر بھاگا نہیں بلکہ کہنے لگا علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)مجھے تلوار دو تو میں اب بھی مقابلہ کرنے کو تیار ہوں۔ حضرت علی(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی بہادری پر غور کریں‘ آپ(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے اپنی نہایت نفیس تلوار دشمن کے حوالے کر دی اور خود نہتے ہو گئے۔ اس پر دشمن ہکا بکا رہ گیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ ماجرا کیا ہے۔ میں تو اس تلوار سے حضرت علی(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے ٹکڑے ٹکڑے کر سکتا ہوں۔ یہ سوچ سوچ کر دشمن حیران و پریشان تھا کہ بمشکل اس کی زبان سے نکلا‘ اے علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)! تم نے تلوار مجھے دے دی ۔ خود نہتے ہو گئے۔ اب تم کیا کرو گے؟دوستو! حضرت علی(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے جواب پر غور کرو ۔ فرمایا’’ آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا ہے کہ کسی نے مجھ سے کچھ مانگا ہو اور میں نے دینے سے انکار کیا ہو‘‘۔ دوستو اس جواب پر دشمن مغلوب ہو گیا اور کہا مرحبا‘ مرحبا‘ اے علی(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) میں تمہاری جرأت اور شرافت کے سامنے اپنا سر جھکاتا ہوں۔ 


حضرت سلیما ن عليه السلام نے کہا چیونٹی کو... ..... The Solomon (as) what said, ant


....حضرت سلیما ن عليه السلام نے کہا

حضرت سلیمان عليه السلام نہر کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کی نگاہ ایک چیونٹی پر پڑی جو گیہوں کا ایک دانہ لے کر نہر کی طرف جارہی تھی ، حضرت سلیما ن عليه السلام اس کو بہت غور سے دیکھنے لگے ، جب چیونٹی پانی کے قریب پہنچی تواچانک ایک مینڈ ک نے اپنا سر پانی سے نکالا اور اپنا منہ کھولا تو یہ چیونٹی اپنے دانہ کے ساتھ اس کے منہ میں چلی گئی، میڈک پانی میں داخل ہو گیا اور پانی ہی میں بہت دیر تک رہا ،
سلیمان عليه السلام اس کو بہت غور سے دیکھتے رہے ،ذرا ہی دیر میں مینڈک پانی سے نکلا اور اپنا منہ کھولا تو چیونٹی باہر نکلی البتہ اس کے ساتھ دانہ نہ تھا۔
حضرت سلیمان عليه السلام نے ا س کو بلا کر معلوم کیا کہ ”ماجرہ کیاتھا اور وہ کہاں گئی تھی“ اس نے بتایا کہ اے اللہ کے نبی آپ جو نہر کی تہہ میں ایک بڑا کھوکھلا پتھر دیکھ رہے ہیں ، اس کے اندر بہت سے اندھے کیڑے مکوڑے ہیں، اللہ تعالی نے ان کو وہاں پر پیدا کیا ہے، وہ وہا ں سے روزی تلاش کرنے کے لیے نہیں نکل سکتے‘ اللہ تعالی نے مجھے اس کی روزی کا وکیل بنایا ہے ، میں اس کی روزی کو اٹھا کر لے جاتی ہو ں اور اللہ نے اس مینڈک کو میرے لیے مسخر کیا ہے تاکہ وہ مجھے لے کر جائے ، اس کے منہ میں ہونے کی وجہ سے پانی مجھے نقصان نہیں پہنچاتا، وہ اپنا منھ بند پتھر کے سوراخ کے سامنے کھول دیتا ہے ، میں اس میں داخل ہو جاتی ہوں ، جب میں اس کی روزی اس تک پہنچا کر پتھر کے سوراخ سے اس کے منہ تک آتی ہوں تو مینڈک مجھے منہ سے باہر نکال دیتا ہے ۔

حضرت سلیما ن عليه السلام نے کہا: ”کیا تو نے ان کیڑوں کی کسی تسبیح کو سنا “ چیونٹی نے بتایا : ہاں! وہ سب کہتے ہیں :

”اے وہ ذات جو مجھے اس گہرے پانی کے اندر بھی نہیں بھولتا“